A PHP Error was encountered
Severity: Notice
Message: Undefined variable: CategoryId
Filename: Khtchen_Include/Fatawa.php
Line Number: 73
Backtrace:
File: /home/u288653365/domains/humaradeen.com/public_html/application/views/_interwood/Khtchen_Include/Fatawa.php
Line: 73
Function: _error_handler
File: /home/u288653365/domains/humaradeen.com/public_html/application/controllers/Product.php
Line: 92
Function: view
File: /home/u288653365/domains/humaradeen.com/public_html/index.php
Line: 323
Function: require_once
زمرہ: تقسیمِ وراثت
جواب:
میت کی تجہیزوتکفین، قرض کی ادائیگی اور وصیت اگر ہو تو ایک تہائی سے پوری کرنے کے بعد جو باقی بچ جائے اُسے ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ صورتِ مسئلہ کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک سگی بہن، بھتیجے اور بھتیجیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے ترکہ سے بیوہ، بہن اور بھتیجوں کو حصہ ملے گا جب کہ بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ ورثاء کے حصوں کی تفصیل بالترتیب درج ذیل ہے:
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
زمرہ: تقسیمِ وراثت
جواب:
میت کی تجہیزوتکفین، قرض کی ادائیگی اور وصیت اگر ہو تو ایک تہائی سے پوری کرنے کے بعد جو باقی بچ جائے اُسے ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ صورتِ مسئلہ کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک سگی بہن، بھتیجے اور بھتیجیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے ترکہ سے بیوہ، بہن اور بھتیجوں کو حصہ ملے گا جب کہ بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ ورثاء کے حصوں کی تفصیل بالترتیب درج ذیل ہے:
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
نمازی کے سامنے سے گزرنا کیسا ہے؟
ایک کتاب نگاہ سے گزری ہے بغداد سے مدینہ تک اس کے صفحہ108 پر ہے جو لوگ فرض نماز کے بعد سنتیں یا نفل پڑھتے ہیں ان کے سامنے سے لوگ گزرتے ہیں حرمین کی دونوں مسجدوں کا یہی حال ہے اسکو نہ کوئی برا مانتا ہے نہ کوئی روکتا ٹوکتا ہے لیکن اب پاکستانیوں نے یہ جدت(بدعت) کی ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھتے وقت ان کے سامنے سے اگر کوئی گزرتا ہے تو اسے روکتے ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب:نمازی کے سامنے سے گزرنا ہرگزجائز نہیں ہےاس میں بہت سخت گناہ ہےحدیث شریف میں ہے لویعلم المار بین یدی المصلی ماذاعلیہ لکان ان یقف اربعین خیرا لہ من ان یمر بین یدیہ قال ابو النضر لاادری قال اربعین یوما او شھرا اوسنۃ یعنی اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لیتا کہ اس میں کتنا گناہ ہے تو چالیس دن تک کھڑے رہنے کو بہتر جانتا راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کے نبی پاک ﷺ نے چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس برس فرمایا ہے (مسلم شریف جلد اول صفحہ197) اس حدیث کے تحت حضرت امام اجل امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں معناہ لو یعلم ماعلیہ من الاثم الاختار الوقوف اربعین علی ارتکاب ذلک الاثم و معنی الحدیث النھی لاکیدو الوعید الشدید فی ذلک یعنی اگر گزرنے والا جانتا اس پر کتنا گناہ ہے تو اس گناہ کے کرنے پر چالیس دن چالیس مہینے چالیس سال کھڑے رہنے کو پسند کرتا خلاصہ حدیث یہ کے گزرنے والوں کو نہایت تاکید کے ساتھ گزرنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کے لیے اس بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں (نوی مع مسلم جلد اول صفحہ 197)
لہذا جو نمازی کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں چاہے وہ فرض نماز پڑھ رہا ہو یو سنتیں یا نفل وہ سخت گنہگار ہیں اور مسجد نبوی میں جو پاکستانی لوگوں کو گزرنے سے روکتے ہیں وہ عین شریعت پر عمل کرتے ہیں یہی شرعی حکم ہے بدعت ہرگز نہیں ہے
البتہ طواف کعبہ کے وقت نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے ،لان الطواف صلاۃ فصار کمن بین یدیہ صفوف من المصلین ، ایسا ہی رد المختار جلد اول صفحہ 236 میں ہے واللہ تعالی اعلم
مفتی محمد ربنواز امین چشتی سیالوی
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
داڑھی رکھنا سنت ہے یا واجب
سوال:داڑھی رکھنا سنت ہے یا واجب ہے اکثر لوگ داڑھی رکھنے کی بات آئے تو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ سنت ہی ہے کون سا فرض یا واجب ہے اور بعض لوگ تو طنزیہ طور پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ داڑھی دین میں ہے دین داڑھی میں نہیں ہے اس کام میں اتنی شدت بس مولوی کرتے ہیں انکے بارے کیا حکم ہے؟
جواب:بسم اللہ الرحمن الرحیم داڑھی سنت ہے یا واجب پہلے ہمیں فقہ میں سنت اور واجب کی اہمیت کیا ہے یہ سمجھنا ہوگا تو اسکے لیے پہلے واجب اور سنت کا فرق سمجھنا ہوگا
واجب کسے کہتے ہیں (الواجب ماثبت بدلیل فیہ شبھۃ وحکمہ کحکم الفرض عملالا اعتقادا فلا یکفر جاھدہ)
ترجمہ:واجب وہ جو ثابت ہو دلیل سے لیکن اس میں شبہ ہو حکم اسکا فرض کی طرح ہے عمل کرنے میں لیکن اعتقادی طور پر وہ اجب ہے اسکا انکار کرنےوالا کافر نہیں ہوگا
سنت کسے کہتے ہیں (السنۃ ماواظب علیہ النبی ﷺ مع ترکہ مرۃ او مرتین وحکمہ الثواب بالفعل والعتاب بالترک فی سنت الھدی)
ترجمہ :سنت وہ ہے کہ جس کام پر نبی کریم ﷺ نے ہمیشگی کی ہو اپنی زندگی میں لیکن ایک یا دو مرتبہ چھوڑا ہواور حکم اسکا یہ ہے کہ کرنے والا ثواب پائے گا اور نہ کرنے والا عتاب پائے گا
بات واضح ہوتی ہے کہ واجب پر ہمیشہ عمل کیا جاتا ہے اور سنت وہ جو نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ایک یا دو دفع چھوڑی ہو تو جو یہ کہتے ہیں کہ داڑھی سنت ہے اب ان سے پوچھا جائے کہ نبی ﷺ نے کب داڑھی شریف کو منڈوایا ہے یا ایک بالشت سے کم کیا ہےبلکہ نبی پاک ﷺ نے ہمیشہ داڑھی شریف کو رکھا ہے اور ایک بالشت رکھا ہے
اب وہ لوگ جو کہ علماء کا مذاق بناتے ہیں تو یہ ایک الگ موضوع انشاء جلد اس پر بھی کلام کیا جائے گا
خادم علم والعلماء مفتی محمد ربنواز امین چشتی سیالوی
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
اللہ تعالی کوحاضروناظر کہنا کیسا ہے؟
سوال:خداتعالی کو ہر جگہ حاضروناظر کہنا کیسا ہے
جواب:حاضر کے لغوی معنی جسم کے ساتھ حاضر ہونا ہے اور ناظر کے معنی آنکھ سے دیکھنا ہے اور اسی طرح بزرگ جگہ کا معنی یوں کرتے ہیں کہ
جگہ فضاء کے اس خالی حصے کو کہتے ہیں جسے کوئی جگہ بھر دےتو اللہ تعالیٰ جگہ سے بھی پاک ہے اس لیے کہ جو چیز کسی جگہ ہوتی ہے وہ محدود ہوتی ہے
جسے فضاء گھیرے پوے ہوتی ہے اللہ تعالی ہر چیز کو محیط ہے غیرمتناہی بالفعل اسے کوئی چیز گھیر نہیں سکتی
ارشادباری تعالی ہے:وکان اللہ بکل شئی محیطا
اللہ تعالی کو کسی جگہ ماننا اس آیت کا انکار ہے اس لیے حدیقئہ ندیہ میں فرمایا اگر کسی نے یہ کہا 'مکانی زتو خالی نہ تو در ہیچ مکانی ' تو وہ کافر ہوجائے گا
اس لیے بعض علماء نے فرمایا کہ جو اللہ تعالی کو حاضر ناظر کہے گا وہ کافر ہو جائے گا مگر تحقیق یہ ہے کہ اگر اسکی مراد معنی مزکور ہویعنی جسم کے ساتھ موجود ہونا اورآنکھ سے دیکھنا تو وہ کافر ہوجائے گا وگرنہ نہیں
در مختار میں ہے:ویا حاضروناظر لیس بکفر
اس کے تحت شامی میں ہے فان الحضور بمعنی العلم شائع والنظر بمعنی الرویۃ فاالمعنی یاعالم یامن یری
مگر اللہ تعالی کو حاضر ناظر کہنا ممنوع ہے
ایسا لفظ جو ایسے معنی کو محتمل ہو جس کا اطلاق شرعا اللہ عزوجل اور اسکے حبیب ﷺ پر ممنوع ہو اگرچہ وہ کوئی معنی صحیح بھی رکھتا ہو
ایسے لفظ کا اطلاق اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے لیے ممنوع ہے
واللہ تعالی اعلم
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
اللہ تعالی کوحاضروناظر کہنا کیسا ہے؟
سوال:خداتعالی کو ہر جگہ حاضروناظر کہنا کیسا ہے
جواب:حاضر کے لغوی معنی جسم کے ساتھ حاضر ہونا ہے اور ناظر کے معنی آنکھ سے دیکھنا ہے اور اسی طرح بزرگ جگہ کا معنی یوں کرتے ہیں کہ
جگہ فضاء کے اس خالی حصے کو کہتے ہیں جسے کوئی جگہ بھر دےتو اللہ تعالیٰ جگہ سے بھی پاک ہے اس لیے کہ جو چیز کسی جگہ ہوتی ہے وہ محدود ہوتی ہے
جسے فضاء گھیرے ہوے ہوتی ہے اللہ تعالی ہر چیز کو محیط ہے غیرمتناہی بالفعل اسے کوئی چیز گھیر نہیں سکتی
ارشادباری تعالی ہے:وکان اللہ بکل شئی محیطا
اللہ تعالی کو کسی جگہ ماننا اس آیت کا انکار ہے اس لیے حدیقئہ ندیہ میں فرمایا اگر کسی نے یہ کہا 'مکانی زتو خالی نہ تو در ہیچ مکانی ' تو وہ کافر ہوجائے گا
اس لیے بعض علماء نے فرمایا کہ جو اللہ تعالی کو حاضر ناظر کہے گا وہ کافر ہو جائے گا مگر تحقیق یہ ہے کہ اگر اسکی مراد معنی مزکور ہویعنی جسم کے ساتھ موجود ہونا اورآنکھ سے دیکھنا تو وہ کافر ہوجائے گا وگرنہ نہیں
در مختار میں ہے:ویا حاضروناظر لیس بکفر
اس کے تحت شامی میں ہے فان الحضور بمعنی العلم شائع والنظر بمعنی الرویۃ فاالمعنی یاعالم یامن یری
مگر اللہ تعالی کو حاضر ناظر کہنا ممنوع ہے
ایسا لفظ جو ایسے معنی کو محتمل ہو جس کا اطلاق شرعا اللہ عزوجل اور اسکے حبیب ﷺ پر ممنوع ہو اگرچہ وہ کوئی معنی صحیح بھی رکھتا ہو
ایسے لفظ کا اطلاق اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے لیے ممنوع ہے
واللہ تعالی اعلم
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
معصوم اورمحفوظ میں فرق کیا ہے
امت محمدیہ میں صرف بارہ امام ہیں ان کے علاوہ کوئی امام نہیں ہے، یہ بات رافضی شیعہ کرتے ییں،جنہیں کتب کے اندر اثناعشریہ یا امامیہ لکھا جاتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بارہ امام نبی اکرم ﷺ کے علاوہ باقی تمام انبیاء سے افضل اور معصوم ہیں اور انکا یہ عقیدہ کفر ہے
اس مسئلہ کو یوں سمجھیں کے ایک ہیں معصوم عن الخطاء اور ایک ہیں محفوظ عن الخطاء
معصوم عن الخطاء فقط انبیاء کرام اور فرشتے ہیں ان کے سوا کسی کو معصوم سمجھنا کفر ہے
معصوم کا معنی یہ ہے کہ ان ہستیوں سے گناہ صادر نہیں ہو سکتا
اور محفوظ عن الخطاء میں اولیاء شامل ہیں یا وہ ہستیاں جن کا انبیاء کرام کے بعض افضل ہونا ثابت ہے محفوظ کا معنی یہ ہوتا ہے کہ ان سے گناہ صادر ہو تو سکتا ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے یہ اللہ کی خاص پناہ میں ہوتے ہیں یعنی اللہ انکی حفاظت فرماتا ہے
اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ غیر نبی جتنا بھی بلند مرتبہ ہوجائے نبی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا چاہے وہ کتنا ہی افضل کیوں نہ ہو انسانوں میں بس انبیاء کرام معصوم ہیں غیر نبی سے اگرچہ کوئی گناہ صادر نہ ہو وہ پھر بھی معصوم نہیں ہے اسے محفوظ کہتے ہیں
واللہ اعلم
مفتی محمد ربنواز امین چشتی سیالوی
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
وہابی اور دیوبندی کے ہاں لڑکی دینا اور ان کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا شرعی حکم
وہابیہ اور دیابنہ اپنے باطل عقائد مثلا اللہ جھوٹ بول سکتا ہے، محمد ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی آسکتاہے، امتی عمل میں نبی سے بڑھ سکتا ہے،نماز میں نبی کا خیال گدھے۔بیل کے خیال اور بیوی سے مجامعت کے خیال سے بدتر ہے ،جس کا نام محمد یا علی ہو وہ کسی بھی چیز کا مالک و مختار نہیں ہوتا، نبی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا
لاالہ الااللہ اشرف علی رسول اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں انبیاء و اولیاء ہر مخلوق چھوٹی بڑی اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے،نبی کا علم شیطان سے کم اور جانوروں اور پاگلوں اور بچوں کے برابر ہے،صحابہ کو کافر کہنے والا کافر نہیں ،حضرت علی کا اسلام معتبر نہیں،حضرت حسین جلیل القدر صحابی نہیں ہیں۔
ان سب باطل عقائد کے سبب دائرہ اسلام سے خارج اور بدترین کافر ومرتد ہیں ان کے ساتھ نکاح تو درکنار نبی صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وازواجہ وسلم نے ان جیسے باطل فرقوں سے وابستہ افراد کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور ابکی نمازجنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے
فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تؤاکلوھم ولا تناکحوھم
بد مذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھوں نہ کھاؤ نہ پیو نہ ان کے ساتھ نکاح کرو
اور فرماتے ہیں
فلاتناکحوھم ولا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم ولا تصلواعلیھم ولا تصلوامعھم
پس نہ انکے ساتھ نکاح کرو نہ انکے ساتھ کھاؤ اور نہ ان کے ساتھ پیو اور نہ انکے ساتھ بیٹھو اور نہ انکی نماز جنازہ پڑھو اوت نہ انکے ساتھ نماز پڑھو
(کنزالعمال11/529:540)
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
دو سجدوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھنا چاہیے
وال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں کتنی دیرتک بیٹھنا ضروری ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اتنا کافی ہے کہ پیٹھ سیدھی ہوجائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کم ازکم اتنی مقدار ٹھہرنا بھی ضروری ہے کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کہہ لیا جائے ۔ دونوں میں سے کس کی بات پر عمل کرنا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سوال کا جواب جاننے کے لیے تین چیزیں سامنے رکھنا ضروری ہے:
1. ایک ہےرکوع اور سجدے سے سراٹھانا۔
2. دوسری چیز ہے رکوع اور سجدے سےسراٹھا کر سیدھا کھڑا ہونا یا سیدھا بیٹھنا جسے قومہ اورجلسہ کہتے ہیں۔
3. تیسری چیز ہے قومہ اورجلسہ میں اتنی دیرٹھہرنا کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار گزر جائے۔اسے تعدیل ارکان کہتے ہیں۔
پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ رکوع سے سراٹھانا واجب ہے،جبکہ سجدے سے سراٹھانا فرض ہے۔دوسری اور تیسری صورت کا حکم یہ ہے کہ یہ سب چیزیں واجب ہیں،یعنی قومہ اورجلسہ بھی واجب ہے اور تعدیل ارکان یعنی قومہ وجلسہ اوردیگر ارکان میں اتنی دیرٹھہرنا بھی واجب ہے کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار گزرجائے۔ان تمام احکام کی بنیاد بخاری شریف کی درج ذیل حدیث پاک ہے۔
بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:” عن أبی هريرة رضی اللہ عنه: أن رجلا دخل المسجدفصلی ، ورسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم فی ناحية المسجد، فجاء فسلم عليه، فقال له:” ارجع فصل فإنك لم تصل “فرجع فصلى ثم سلم، فقال:’’وعليك ، ارجع فصل، فإنك لم تصل“قال فی الثالثۃ :فأعلمنی ،قال:إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، واقرأ بما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع رأسک حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوی وتطمئن جالسا، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوی قائما ، ثم افعل ذلك فی صلاتك كلها “ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی ایک جانب تشریف فرما تھے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم دوبارہ جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی،وہ دوبارہ آیا اور نماز پڑھی ،پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تم پر بھی سلام ہو،دوبارہ جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس شخص نے تیسری مرتبہ عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سکھا دیجئے (کہ میں کیسے نماز پڑھوں؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرے، تو اچھے طریقے سے وضو کر،پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے تکبیرکہہ،اس کے بعد جو قرآن تمہیں آسان ہو وہ پڑھو،پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان ہوجائے ،پھر سراٹھاؤ یہاں تک کہ اعتدال کی حالت میں سیدھے کھڑے ہوجاؤ،پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان ہوجائے ،پھر سجدے سے سراٹھاؤ یہاں تک پیٹھ سیدھی ہوجائے اوراطمینان سے بیٹھ جاؤ،پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان حاصل ہوجائے ،پھر سراٹھا کر سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور پوری نماز میں اسی طرح کرو۔ (بخاری شریف، جلد8،صفحہ135،مطبوعہ دار طوق النجاہ)
رکوع سے سراٹھانا واجب ہے۔بدائع الصنائع میں ہے:”أما المفروض فقد ذكرناه وهو الانتقال من الركوع الى السجود لما بينا أنه وسيلة الى الركن، فأما رفع الرأس وعوده الى القيام فهو تعديل الانتقال وانه ليس بفرض عند أبی حنيفة ومحمد بل هو واجب“ ترجمہ: رکوع کے بعد فرض وہ چیز ہے جو ہم نے بیان کردی کہ رکوع سے سجدے کی طرف منتقل ہونا فرض ہے، کیونکہ یہ انتقال ہی اگلے رکن تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔ جہاں تک رکوع سے سراٹھانے اور قیام کی طرف واپس آنے کا معاملہ ہے ،تو یہ تعدیل انتقال ہے اور یہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک فرض نہیں ، بلکہ واجب ہے۔ (بدائع الصنائع ،جلد1،صفحہ 209،مطبوعہ بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:” قوله: ”والرفع من الركوع“ عطف على الاطمئنان فهو واجب قال فی الشرح ومقتضى الدليل وجوب الطمأنينة فی الأربعة ووجوب نفس الرفع من الركوع والجلوس بين السجدتين الخ“ ترجمہ: ”رکوع سے سراٹھانا“ اس کا عطف اطمینان پر ہے اور یہ واجب ہے ،شرح میں فرمایا کہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ چاروں(رکوع،سجدہ،قومہ،جلسہ) میں اطمینان بھی واجب ہے اور رکوع سے سراٹھانا بھی واجب ہے اور دوسجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی واجب ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 250،مطبوعہ کوئٹہ)
سجدے سے سراٹھانا فرض ہے۔جدالممتار میں فرمایا:”أما نفس الرفع من السجدۃ ففرض علی ما صححہ فی الھدایۃ کما سیأتی (مزید کچھ عبارتیں نقل کرنے کے بعد فرمایا) فینبغی أن لا یفترض الا نفس الرفع اذ تکرار السجدۃ فرض ولا یحصل الا بہ بخلاف الجلوس فلا یکون الا واجبا للمواظبۃ کما ذکر ھنا “ ترجمہ:سجدے سے سراٹھانا فرض ہے ، ہدایہ میں اسی کو صحیح قراردیا ہے ،جیسا کہ آئندہ بھی عنقریب آئے گا۔(کچھ عبارتیں نقل کرنے کے بعد) فرض صرف سراٹھانا ،ہونا چاہیے کیونکہ دوسری مرتبہ کا سجدہ بھی فرض ہے اور دوسری مرتبہ کا سجدہ تب ہی حاصل ہوگا جب پہلے سجدے سے سراٹھایا جائے۔برخلاف جلسے کے ،یہ واجب ہی ہوگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پر مواظبت ہے جیسا کہ یہاں ذکرکیا گیا ۔ (جدالممتار،جلد3،صفحہ 157،158، مکتبۃ المدینہ کراچی)
بدائع الصنائع میں ہے:”والرفع فرض، لأن السجدة الثانية فرض فلا بد من الرفع للانتقال اليها “ ترجمہ: سجدے سےسراٹھانا فرض ہے ،کیونکہ دوسرا سجدہ فرض ہے اور اس فرض کو ادا کرنے کے لیے پہلے سجدے سے سراٹھانا بھی فرض ہوا تاکہ دوسرے سجدے کی طرف منتقل ہوا جاسکے۔(بدائع الصنائع، جلد1،صفحہ210،مطبوعہ بیروت)
قومہ وجلسہ بھی واجب اور ان میں تعدیل بھی واجب ہے۔ردالمحتار میں ہے:”يجب التعديل أيضا فی القومة من الركوع والجلسة بين السجدتين، وتضمن كلامه وجوب نفس القومة والجلسة أيضا لأنه يلزم من وجوب التعديل فيهما وجوبهما “ ترجمہ:رکوع سے کھڑے ہونے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں بھی تعدیل واجب ہے ،یہ کلام اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ نفس قومہ (رکوع سے سراٹھا کرکھڑا ہونا)اورنفس جلسہ (سجدے سے سراٹھا کربیٹھنا)بھی واجب ہی ہے،کیونکہ ان دونوں میں تعدیل واجب ہونے سے ان کا واجب ہونا بھی لازم آتا ہے ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار،جلد2،صفحہ193،مطبوعہ کوئٹہ)
مراقی الفلاح میں ہے:”مقتضی الدلیل وجوب الاطمئنان أيضا فی القومة والجلسة والرفع من الركوع للأمر به فی حديث المسی صلاته وللمواظبة على ذلك كله. واليه ذهب المحقق الكمال بن الهمام وتلميذه ابن أميرحاج وقال انه الصواب “ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ قومہ اورجلسہ میں بھی اطمینان واجب ہو اور رکوع سے اٹھنا بھی واجب ہوکہ ناقص نماز پڑھنے والے کو حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے،نیز ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مواظبت بھی ہے ،اسی قول کی طرف محقق کمال بن ھمام رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن امیرحاج رحمہ اللہ گئے ہیں،یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ درست قول یہی ہے۔(مراقی الفلاح متن حاشیۃ الطحطاوی، صفحہ 249،مطبوعہ کوئٹہ)
اطمینان کی مقدار کے بارے میں مجمع الانہر میں ہے:”تسكين الجوارح فی الركوع والسجود حتى تطمئن مفاصلها واجب عند الطرفين وأدناه مقدار تسبيحة“ترجمہ:رکوع اورسجدے میں اعضاء کا ساکن ہوجانا ،یہاں تک کہ تمام جوڑ اطمینان کی حالت میں آ جائیں ،یہ طرفین کے نزدیک واجب ہے اور اس کی ادنیٰ مقدار ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنا ہے۔(مجمع الانھر ،جلد1،صفحہ 132،مطبوعہ کوئٹہ)
بہارشریعت میں نماز کے واجبات میں ہے:” (۱۹) تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر ٹھہرنا یوہیں (۲۰) قومہ یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا۔ (۲۱) جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا۔ “(بھارشریعت ،جلد1،حصہ3،صفحہ518، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
- By Job doe ....
- 50
- 80 Comments
